سونا نہ چاندی نہ کوئی محل جانِ من

سونا نہ چاندی نہ کوئی محل جانِ من جیسا گیت ایک عرصہ زباں زد عام رہا۔ ساون آئے ساون جائے جیسے یادگار گیت گانے والے اخلاق احمد انیس سوباون کو کراچی میں پیدا ہوئے ۔انہوں نے گلوکاری کا آغاز کراچی کے سٹیج پروگرام سے کیا،،،،1971ءمیں انہیں کراچی میں بننے والی فلم “تم سا نہیں دیکھا” میں گلوکاری کا موقع ملا،،،لیکن شہرت حاصل نہ کرسکے،،، اس کے بعد فلم “بادل اور بجلی” اور “پازیب “میں بھی اخلاق احمد کے گیت شامل ہوئے مگر وہ بھی زیادہ مقبول نہ ہوئے۔

قسمت جاگی اور موسیقار روبن گھوش نے اخلاق احمد کی آواز میں اپنی فلم چاہت کا ایک نغمہ ساون آئے،ساون جائے ریکارڈ کروایا۔ یہ نغمہ اخلاق احمد کے فلمی سفر کا سب سے مقبول نغمہ قرار پایا۔ اس نغمے پر انہیں خصوصی نگار ایوارڈ بھی عطا ہوا۔

اسی دوران اخلاق احمد نے پاکستان ٹیلی وژن پر بھی گلوکاری کا آغاز کیا اور وہ ٹیلی وژن کے بھی مقبول گلوکار بن گئے۔ساتھ ہی ساتھ فلمی دنیا میں بھی اخلاق احمد کی مقبولیت کا سفر جاری رہا۔”شرافت”، “دو ساتھی”، پہچان، دلربا، امنگ، زبیدہ، انسان اور فرشتہ،انسانیت،مسافر،راستے کا پتھر،آئینہ،سنگم،خاک اور خون، بندش، مہربانی،ایسی متعدد لازوال فلمیں ہیں جن میں اخلاق احمد کے گائے ہوئے گیت بے حد پسند کئے گئے۔

اخلاق احمد نے اپنی فنی زندگی میں 90 اردو فلموں میں مجموعی طور پر 140 نغمے گائے۔ ان کے بیشتر گانے بے حد مقبول ہوئے۔ انہوں نے آٹھ نگار ایوارڈ اپنے نام کئے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.