افغان طالبان نے امریکی حکام سے مذاکرات منسوخ کردیئے

افغانستان میں قیام امن کے لیے طالبان اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا آج سے دو روزہ آغاز دوحہ میں ہونا تھا تاہم اب خبر آئی ہے کہ طالبان نے حالیہ مذاکراتی عمل معطل کردیا ہے۔ طالبان کے مطابق مذاکرات میں تعطل کی وجہ گفتگو کے ایجنڈا میں اتفاق کا نہ ہونا ہے۔ اس کے علاوہ طالبان نے مذاکرات میں افغان حکومت کی شمولیت کو بھی مسترد کردیا

افغان طالبان اور امریکا کے درمیان افغانستان میں جاری 17 سالہ جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کایہ چوتھا دورتھا جس میں شرکت کیلئے دونوں جانب سے وفود قطر کے دارالحکومت دوحہ پہنچ گئے تھے۔ مذاکرات میں اہم امور کے علاوہ کئی فیصلوں کو حتمی شکل دی جانی تھی۔

اس سے قبل افغان طالبان اور امریکا کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان زلمے خلیل زاد کے درمیان مذاکرات کے تین ادوار ہوچکے ہیں۔ مذاکرات کا آخری دور دسمبر 2018 میں ابوظہبی میں ہوا تھا جس میں سعودی عرب، پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے حکام بھی شریک ہوئے تھے

ٹرمپ انتظامیہ نے 2017ء میں حکومت سنبھالنے کے بعد طالبان کے خلاف مزید افواج کی منظوری دی اور اب وہاں امریکی افواج کی تعداد بڑھ کر 14 ہزار سے تجاوز کرچکی ہے

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.