!!!افغان امن مذاکرات کی منسوخی

روسی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق افغان طالبان کے وفد نے ماسکو کا دورہ کیا جہاں ان کا استقبال نمائندہ خصوصی برائے افغانستان ضمیر کابلوف نے کیا۔ اس موقع پر روس نے امن مذاکرات کی بحالی کی ضرورت پر زور دیا جبکہ تحریک طالبان نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات بحال کرنے پر رضا مندی ظاہر کی۔دوسری جانب دوحہ میں قائم طالبان کے سیاسی دفتر میں ایک سینئر رہنما نے دوروں کے حوالے سے کہا کہ ان کا مقصد امریکہ سے مذاکرات کی بحالی نہیں بلکہ امریکی فوجیوں کوافغانستان سے نکلنے پر مجبور کرنے کیلئے علاقائی تعاون کا جائزہ لینا ہے۔ طالبان رہنما کا کہنا خطے کے اہم ممالک کو بتایا جائے گا امریکا نے امن مذاکرات کو ایسے وقت میں منسوخ کیا جب معاہدہ انتہائی قریب تھاادھرامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک ٹویٹ میں طالبان کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کا اشارہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات کی بحالی کیلئے بہت سے بہترین راستےموجود ہیں۔طالبان کو اس سے پہلے اتنا شدید نشانہ نہیں بنایا گیا ہوگا جتنا اب بنایا جارہا ہے۔ صدرٹرمپ کاکہنا تھا کہ طالبان جانتے ہیں کہ انہوں نے بہت بڑی غلطی کی ہے اور انہیں اس بات کا کوئی اندازہ نہیں ہے کہ اس غلطی کو درست کیسے کرنا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.