امریکی صدر کا ایک کروڑ افغانیوں کو قتل کرنے کا بیان

افغان صدر کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ افغانستان کی حکومت امریکی صدر کے خیالات پر سفارتی ذرائع اور چینلز کے ذریعے وضاحت کا مطالبہ کرتی ہے۔ اشرف غنی کا کہنا تھا کہ افغان حکومت ملک میں قیام امن کیلئے امریکی کوششوں کی حمایت کر رہی ہے تاہم حکومت یہ سمجھتی ہے کہ غیرملکی سربراہان مملکت افغان قیادت کی غیرموجودگی میں افغانستان کی قسمت کے فیصلے کا تعین نہیں کرسکتی۔تحریک طالبان افغانستان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ افغانستان کو فتح کرنے کا خواب چنگیز خان، برطانیہ اور سوویت یونین کیلئے قبر ثابت ہوا ، افغانستان پر قبضہ کرنے کی کوشش کرنے والوں کے ملک اور بادشاہتوں کے نام و نشان بھی باقی نہ رہے لیکن افغان قوم باقی ہے اور باقی رہے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ 18 سال کے دوران امریکہ نے افغانیوں کو ہلاک کرنے میں کسی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کیا، ہم یہ توقع کرتے ہیں کہ ٹرمپ غیر ذمہ دارانہ بیانات دینے کے بجائے مسئلے کے حل کی طرف عملی اقدامات کریں گے۔امریکی صدر نے وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو میں کہا تھا کہ میرے پاس پاس افغان تنازع کے جلد حل کے لیے منصوبے تھے لیکن اس سے یہ ملک ’صفحہ ہستی سے‘ مٹ جاتا۔ لیکن میں لاکھوں لوگوں کو قتل نہیں کرنا چاہتا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.