افغان مسئلہ کا حل کچھ لوکچھ دوکی بنیاد پرہی ممکن

امریکا اور طالبان کے درمیان ہونے والے مذکرات کا ساتواں دورہفتہ کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہوگا ۔ طالبان کی جانب سے مذاکرات کا محور امریکی اور دیگرغیرملکی افواج کاافغانستان سےمکمل انخلاء ہوگا۔امریکا کی جانب سے طالبان سے یہ ضمانت لینے پرزورہوگا کہ افغان سرزمین کو عسکری حملوں کے لیے استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔مذاکرات کےحوالے سے طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ایک مرتبہ جب انخلا کی تاریخ کا اعلان ہوگیا تو بات چیت خود بخود اگلے دور میں داخل ہوجائے گی،مزید کہا کہ ہمیں انخلا کا عمل مکمل ہونے کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی، دونوں چیزیں بات چیت اور انخلا ساتھ ساتھ آگے بڑھیں گی۔مذاکراتی عمل میں فریقین دیگر دو معاملات کوبھی زیربحث لائیں گے،جن میں جنگ بندی کا عمل اور افغان فریقین، حکومت اور عسکریت پسندوں کے مابین بات چیت شامل ہیں۔دوسری جانب مذاکرات کے چھٹے دور سے باخبر ذرائع کا کہنا تھا کہ بات چیت دونوں فریقین کے درمیان اختلافات پر ختم ہوئی لیکن اس وقت سے غیر رسمی ملاقاتوں میں ایسے قابلِ عمل نتیجے کی کوشش کی جارہی ہے جس پر دونوں کا اتفاق ہو۔امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمتی عمل زلمے خلیل زاد نے بھی افغان قیادت کے ساتھ دوحہ میں غیر رسمی ملاقاتیں کیں، ٹوئٹر پر دیئے گئے بیان میں ان کا کہنا تھا کہ تمام فریقین تیز ترین پیش رفت کے خواہاں ہیں ۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.