90 روزہ ریمانڈ دیں،نیب کو ایل این جی کیس سمجھا دوں،شاہد خاقان

نیب نے شاہد خاقان عباسی کو ایل این جی ٹرمینل کے معاملے میں اختیارات کے ناجائز استعمال اور قومی خزانے کو ڈیڑھ ارب روپے نقصان پہنچانے کے الزام میں گرفتار کر رکھا ہے۔ نیب حکام کی جانب سے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کے روبرو پیش کیا گیا۔ نیب حکام کی جانب سے شاہد خاقان عباسی کے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی۔
احتساب عدالت کے جج نے شاہد خاقان عباسی مکالمہ کرتے ہوئے کہا آپ کیا کہنا چاہیں گے؟ جس پر شاہد خاقان عباسی نے کہا میں چاہتا ہوں 90 روزہ جسمانی ریمانڈ دیں تاکہ نیب کو ایل این جی کیس سمجھا دوں کیونکہ ابھی تک نیب کو ایل این جی کیس سمجھ نہیں آیا۔ جج محمد بشیر نے مسلم لیگ ن کے رہنما سے پوچھا کہ آپ کے وکیل کہاں ہیں جس پر انہوں نے جواب دیا میں خود اپنا وکیل ہوں۔شاہد خاقان عباسی نے عدالت سے استدعا کی کہ گھر سے پرہیزی کھانا لانے کی اجازت دی جائے، جس پر احتساب عدالت کے جج نے کہا نیب والے آپ کو پرہیزی کھانا بنا کر دیں گے۔ عدالت نے نیب حکام کی جانب سے شاہد خاقان عباسی کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا منظور کرتے ہوئے سابق وزیراعظم کو 13 روز کیلئے نیب کے حوالے کر دیا جس کے بعد نیب حکام شاہد خاقان عباسی کو اپنے ہمراہ لے کر روانہ ہو گئے۔
شاہد خاقان عباسی مسلم لیگ ن کے دورِ حکومت میں پہلے وزیر پیٹرولیم رہے اور پانامہ کیس میں نوازشریف کی نااہلی کے بعد انہیں وزیراعظم بنایا گیا تھا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.