پاکستان کی ڈومیسٹک پروازوں میں غیرقانونی رقم کی منتقلی کاانکشاف

0

پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائن کےطیارے کوگزشتہ دنوں پیش آنےوالےحادثے کےبعد ملک میں فضائی راستے سے بھاری رقوم کی غیر قانونی منتقلی کا انکشاف ہواہے۔22 مئی کو تباہ ہونے والےمسافر طیارے کے ملبے سے 3 کروڑ روپے سے زائد مالیت کی ملکی اور غیرملکی کرنسی برآمد ہوئی ہےاور یہ رقم 3 بیگوں میں ملبے میں مختلف مقامات سے ملی۔ پی آئی اےحکام کا کہنا ہے کہ بدقسمت طیارےسے رقم کی منتقلی کی اطلاع ائیرلائن کے پاس نہیں تھی۔ملبے سےملنے والی رقم رینجرزنےپی آئی اےحکام کے حوالے کردیپی آئی اے حکام کا کہنا ہےکوئی مسافر بڑی مقدار میں رقم نہ تو لگیج میں لے جاسکتا ہے اور نہ ہی ہینڈ کیری کر سکتا ہے،اگررقم لےجانی ہےتوپہلےائیرلائن کوبتانا ہوگااوراسےایک اضافی سیٹ خریدنا ہوگی اوررقم سے بھرا بیگ اس اضافی سیٹ پر رکھ کر سفر کرنا ہوگا۔پی آئی اے کےترجمان کا کہنا ہےکہ حادثے کا شکار ہونے والی فلائٹ سےرقم کی منتقلی کی ائیرلائن کے پاس کوئی اطلاع نہیں تھی، کسی مسافرنےکوئی اضافی سیٹ نہیں خریدی تھی، بھاری رقم کے 3 دعویداراب تک سامنے آچکے ہیں۔خیال رہےکہ سٹیٹ بینک بھی بھاری رقوم کی منتقلی کے لیےبینکنگ چینل استعمال نہ کرنے کو درست نہیں سمجھتا۔ایف اے ٹی ایف کی شرائط پرسٹیٹ بینک نے سال 2019ء میں ایکسچینج کمپنیوں کے لیے نقد رقم منتقلی کا طریقہ کار وضع کیا تھاجس کے مطابق ایکسچینج کمپنیاں ایک شہر سےدوسرے شہررقم کی منتقلی بینک کے ذریعےہی کرنےکی پابند ہیں۔ایکسچینج کمپنیاں نقد رقم ڈاک کےذریعےمنتقل نہیں کرسکتی ہیں،جب کہ غیرملکی کرنسی کی منتقلی کے لیےصرف ایکسچینج کمپنی کےملازم ہی یہ کام کرسکتےہیں۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: