ہٹلرمودی کے دیس میں مظلوم کشمیریوں کے حق میں بولنے والوں کیلئے کوئی جگہ نہیں

0
مودی سرکار کو ڈیبی ابراہمز کی جانب سےمظلوم کشمیریوں کے حق میں آواز بلند کرنا ایک آنکھ نہ بھایا اور بھارتی حکومت نے کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرنے کے فیصلے پر تنقید کرنے والی برطانوی رکن پارلیمنٹ ڈیبی ابراہمز کو نئی دہلی ایئر پورٹ پر روک لیا اور بعد ازاں انہیں دبئی ڈی پورٹ کر دیا۔
برطانیہ میں ’آل پارٹی پارلیمنٹری گروپ فار کشمیر‘ کی چیئرپرسن ڈیبی ابراہمز کا کہنا ہے کہ نئی دہلی ائیرپورٹ پہنچنے پر امیگریش کاؤنٹر پر اپنی ای ویزا سمیت تمام دستاویزات دکھائیں اور اپنی تصویر بھی بنوائی تاہم بعدازاں بتایا کہ میرا "ای ویزا” مسترد کر دیا گیا ہےجوکہ اکتوبر 2020 تک کارآمد تھا جبکہ امیگریشن حکام کی جانب سے میرے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کیا گیا۔
ٹوئٹر پر کشمیر کے حوالے اپنے اوپر ہونے والی تنقید کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’میں تمام لوگوں کو سماجی انصاف اور انسانی حقوق دلانے کے کیے سیاستدان بنی ہوں۔ میں ناانصافی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر اپنی حکومت کو بھی چیلنچ کرتی رہوں گی۔‘
ادھر بھارت میں برطانوی ہائی کمیشن کا کہنا ہے کہ وہ انڈین حکام سے رابطے میں ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ برطانوی رکن پارلیمان کو داخلے سے کیوں روکا گیا۔ برطانوی رکن پارلیمنٹ ڈیبی ابراہمز مودی سرکار کی جانب سے گذشتہ سال 5 اگست کو کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے اور اس کے بعد وادی میں نقل و حرکت پر پابندیوں اور لاک ڈاؤن کی سخت ناقد ہیں ۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: