ہم جو زندہ ہیں تو پھر جون کی برسی کیسی

جون کی شاعرانہ تب و تاب اپنی جگہ لیکن فلسفے اور تاریخ پر دسترس میں بھی اُن کے ہمعصروں میں اُن کا مقام انفرادیت کا حامل ہے۔ کچھ لوگ عام طور پر جون بھائی کی کامیابی کا سبب ان کی وضع قطع، مشاعروں میں پڑھنے کا ڈھب اور اُن کے رومانوی قطعات کو بتاتے ہیں۔ لیکن اگر یہ سب نہ ہوتا تو بھی جون اتنے ہی بڑے اور توانا شاعر ہوتے۔ انہوں نے غزل میں بالکل سامنے کے تجربات کو جس خوبصورتی کے ساتھ تحریر کیا، وہ اُنہی کا خاصا تھا۔
جون ایلیا کی شاعری کی انفرادیت ان اشعار سے بخوبی ظاہر ہوتی ہے۔
یہ مجھے چین کیوں نہیں پڑتا
ایک ہی شخص تھا جہان میں کیا؟
بہت نزدیک آتی جا رہی ہو
بچھڑنے کا ارادہ کر لیا کیا؟
شاید مجھے کسی سے محبت نہیں ہوئی
لیکن یقین سب کو دلاتا رہا ہوں میں
جون بنیادی طور پر رومانوی مزاج رکھتے تھے اور ساتھ ہی معاشرے کی ناہمواری اور انسانی حقوق کی پامالی پر بھی بہت دکھی رہتے تھے۔ جون کی زندگی میں سب سے زیادہ خوشی کا لمحہ اُن کی زاہدہ حنا سے شادی کا لمحہ تھا، جو بہت دیر تک برقرار نہیں رہ سکی۔ اسی طرح جون اپنے رفقاء کو سب سے زیادہ دکھی بھی اس وقت لگے جب اُن کی زاہدہ حنا سے شادی ختم ہوئی۔
جون نے ایک بار کہا تھا:
مجھ کو تو کوئی ٹوکتا بھی نہیں
یہی ہوتا ہے خاندان میں کیا؟
آج نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں جون ایلیا کے چاہنے والے اور ان کے اشعار پرسر دھننے والے اُن کے ادبی خاندان میں شامل ہو چکے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.