کمزوربیساکھیوں پر کھڑی حکومت کو خطرہ

پنجاب میں قائد حزب اختلاف کے بعد مسلم لیگ ن نے قائد ایوان بھی اپنا لانے کافیصلہ کرلیا اور اس سلسلے میں پارلیمانی پارٹی کے رہنماؤں کو ٹاسک سونپ دیا گیاجبکہ ایوان میں تبدیلی کے لیے آزاد اور حکمران اتحاد کے ناراض اراکین ٹارگٹ بنایا جائے گا۔
پیپلزپارٹی،آزاد ارکان اور متعدد ناراض اراکین اسمبلی مسلم لیگ ن کی قیادت سے مسلسل رابطوں میں ہیں جبکہ مسلم لیگ ن کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے گرین سگنل کی صورت میں تحریک عدم اعتماد لائی جائے گی۔۔
پنجاب اسمبلی میں حکومت اوراپوزیشن کےدرمیان21ارکان کا فرق ہے۔ حکمران اتحاد کے190ارکان جبکہ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کی 174 نشستیں موجود ہیں۔ اگر4آزاد ارکان اپوزیشن کی حمایت کرتے ہیں توحکومت اوراپوزیشن کے درمیان 17 ارکان کا فرق رہ جائے گا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.