کرتارپور راہداری سکھ یاتریوں کے استقبال کیلئے تیار

کرتارپورراہداری پر بھارت کے انکار کے بعد پاسپورٹ اور رجسٹریشن کی شرط بحال کر دی گئی۔ بھارت کے اعتراض کے بعد خصوصی رعایت کو جاری نہیں رکھا جا سکتا۔ سفارتی ذرائع کے مطابق ممکن نہیں کہ بھارت پاسپورٹ چیک کرے اور پاکستان نہ کرے۔ پاکستان نے ایک سال کیلئے پاسپورٹ اور10 روز قبل رجسٹریشن کی شرط ختم کی تھی۔ دونوں ممالک کی جانب سے یاتریوں کی فہرستوں کے تبادلے پر کام جاری ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا ہے کہ یاتری 3 انٹری پوائنٹس سے پاکستان میں داخل ہوں گے۔ یاتری راہداری، واہگہ بارڈر اور دیگر ممالک سے پاکستان پہنچیں گے۔ تقریب میں منموہن سنگھ، نوجوت سدھو، بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ شرکت کریں گے۔
دوسری جانب سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی نے بھی مولانا فضل الرحمن کے اس مطالبے کو درست قرار دیا کہ پاسپورٹ کے بغیر کرتارپورکسی کو نہیں آنے دینا چاہئے۔ حکومت زائرین کو باقی سہولیات ضرور دے لیکن پاسپورٹ کی شرط ساتھ رکھے، پاسپورٹ ہوگا تب ہی یہاں آنے جانے والوں کا ریکارڈ ہوگا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.