کراچی سے خیبر تک آٹے کا بحران،70 روپے کلو فروخت

0

ملک بھر کی طرح پنجاب میں بھی آٹا نایاب ہے۔ بیس کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت گیارہ سو روپے تک جا پہنچی ہے۔ بحران کا فائدہ اٹھاتے ہوئے گندم ذخیرہ کر لی گئی ہے۔ چکیوں پرآٹا 70 روپے کلو میں فروخت کیا جا رہا ہے جبکہ عام مارکیٹ سے معیاری آٹا بھی نایاب ہو چکا ہے۔ بعض مقامات پر 20 کلو آٹے کا تھیلا 900 سے 1100 روپے کلو میں دستیاب ہے۔
کراچی کی بات کی جائے تو وہاں آٹے کی قیمت ہر گزرتے دن کے ساتھ نئے ریکارڈ بنا رہی ہے۔ صرف پانچ ماہ میں دس کلو آٹے کی قیمت میں دو سو سے ڈھائی سو روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ فائن ہو یا چکی دس کلو آٹے کی قیمت 700 روپے تک پہنچ گئی۔ دکانداروں کے مطابق آٹے کی طلب زیادہ مگر سپلائی انتہائی کم ہے۔ تین ماہ میں سندھ میں گندم کی 100 کلو والی بوری کی قیمت 1300 روپے اضافے سے 5 ہزار 300 روپے تک پہنچ چکی ہے۔
دوسری جانب کوئٹہ سمیت بلوچستان کے دیگر علاقوں میں آٹے کا بحران مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔ مارکیٹ میں 20 کلو آٹے کی قیمت گیارہ سو بیس روپے تک پہنچ گئی ہے۔ شہر کے یوٹیلیٹی سٹورز سے آٹا بھی غائب ہو گیا ہے۔ فلور ملوں کی جانب سے ضرورت کے مطابق آٹا مہیا نہیں کیا جا رہا ہے۔ آٹے کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث تندور مالکان نے بھی روٹی کا وزن کم کرنے اور قیمتیں بڑھنے کا عندیہ دے دیا ہے۔
خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے پنجاب حکومت سے رابطے کے بعد آٹے کی ترسیل شروع ہو گئی ہے جس کے بعد قیمتوں میں تو کسی حد تک کمی ہوئی لیکن نانبائیوں نے روٹی کی قیمت میں اضافے کا عندیہ دے دیا۔ نان بائیوں نے روٹی کی سرکاری قیمت دس سے بڑھاکر پندرہ روپے کرنے کا مطالبہ کیا اور مطالبات کی منظوری کیلئے ہڑتال کردی۔ ہڑتال کے باعث طلبہ و طالبات اور سرکاری و نجی ملازمین کو روٹی سے ناشتہ کئے بغیر سکول اور دفاتر جانا پڑا۔
ادھر حکومت نے آٹا بحران پر قابو پانے کیلئے ذخیرہ اندوزوں اور گراں فروشوں کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دیا ہے۔ زرعی ملک ہونے کے باوجود ملک بھر میں آٹے کا بحران پیدا ہوگیا ہے۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: