کراچی:چھٹی کےروز بھی لوڈشیڈنگ کی چھٹی نہ ہوئی

0

اضافی گیس بھی مل گئی۔ وفاق کی جانب سے بجلی بھی فراہم کی گئی، لیکن کے الیکٹرک کی ہٹ دھری برقرار ہے۔ وفاقی وزیر اسد عمر اور گورنر سندھ کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے۔ اور کراچی میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کا جن بوتل میں بند نہیں کیا جاسکا۔
کراچی میں ایک بار پھر بجلی بحران پیدا ہو گیا ہے۔ بجلی کی طلب اور رسد کا فرق 300 میگاواٹ ہونے سے لوڈشیڈنگ کا دورانیہ مزید بڑھادیا گیا ہے۔مختلف علاقوں میں 6 سے 8 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ معمول بنادی گئی ہے۔ ملیر، لانڈھی، کورنگی، شاہ فیصل کالونی، گلستان جوہر، گلشن اقبال، بلدیہ ٹاؤن، لائنز ایریا، اورنگی ٹاؤن، قائد آباد، کیماڑی اور لیاقت آباد سمیت درجنوں علاقوں کے مکین آج بھی لوڈشیڈنگ کا عذاب برداشت کرنے پر مجبور ہیں۔
کے الیکٹرک کی ڈھٹائی کا عالم یہ ہے کہ مرمت کے نام پر بھی گھنٹوں بجلی بند کرکے گرمی میں شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا جارہا ہے۔
لوڈشیڈنگ کے باعث کراچی میں پانی کا بحران بھی شروع ہو گیا ہے۔واٹر بورڈ کے مطابق پمپنگ اسٹیشن پر بجلی نہ ہونے سے 300 ملین گیلن پانی فراہم نہ ہو سکا۔ ضلع وسطی اور شرقی میں 13 دن سے پانی فراہم نہیں کیا جا سکا ۔ضلع غربی میں بھی پانی سپلائی کا آپریشن لوڈشیڈنگ کے باعث متاثر رہا۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: