کراچی:پولیس کے سامنے شہری کا قتل،ملزم کا بیان ریکارڈ

تین افراد کو جان سے مارنا تھا افسوس ہے دو اب بھی زندہ رہ گئے ہیں،،، گزشتہ روز نوجوان کو قتل کرنے والا ملزم سہیل سلاخوں کے پیچھے پہنچ گیا لیکن اکڑ ختم نہ ہوئی،،،کراچی کے علاقے نیوٹاؤن میں پولیس کے سامنے منور علی کو مارنے والا ملزم بیان میں کہنے لگا وکیل روشن مرتضیٰ، ایف آئی اے انسپکٹر شہباز اور منور کو قتل کرنا تھا،،،کیونکہ انہی تینوں نے مجھے سابقہ بیوی اور بچوں سے الگ کیا،،،کہا ایس ایس پی آفس سمیت پولیس کے ہر دفتر میں پستول لگا کر گیا،،، ملزم نے بیان میں مزید کہا کہ تینوں نے میرا فلیٹ بیچ ڈالا،،،ایف آئی اے انسپکٹر نے ڈھائی کروڑ روپے ہتھیائے،،،ادھر سندھ ہائیکورٹ کےعدالتی دستاویزات کے مطابق ملزم سہیل کی ذہنی حالت کے باعث ججز اور وکلا کیس کی سماعت سے انکار کرچکے تھے،،، ملزم سابق اسسٹنٹ ڈائریکٹر آئی بی رہ چکا ہے جس نے بعد میں پراپرٹی کے کام کیلئے ملازمت چھوڑی،،، گھریلو تنازعے کےباعث ملزم کی سابقہ بیوی مئی 2014 میں خلع لیکر تین بیٹیوں کے ساتھ کہیں اور منتقل ہوگئی تھی،،،قاتل تھانوں میں اسلحہ لیکر جاتا رہا،،،کیا سابقہ آئی بی افسر ہونے کےناطے ملزم کا اثرو رسوخ اب بھی قائم تھا،،،کیا پولیس کو ہتھیار لانے کی خبر تھی؟اگر تھی تو اسلحہ تحویل میں کیوں نہیں لیا گیا،،، یاپھر پولیس کی تربیت اتنی ناقص ہے کہ پولیس کو تھانوں اور ایس ایس پی آفس میں اسلحہ لانے کی خبر تک نہ ہوئی۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.