پی ٹی آئی حکومت کو جانا ہو گا، احسن اقبال

پاکستان مسلم لیگ ن کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے حکومت پر تنقید کر تے ہوئے کہا کہ خود دھرنے دینے والے کیسے اعتراض کر سکتے ہیں؟حکومتی مذاکرات کی پیشکش بغل میں چھری، منہ پہ رام رام کے مترادف ہے۔
لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ 126 دن کے دھرنے میں سکول بند رہے، چینی صدر کا دورہ نہ ہوسکا، اب بچوں کی تعلیم کا خیال آ رہا ہے؟ مذاکرات سے پہلے عمران خان 2014ء کے دھرنے پہ قوم اور نواز شریف سے معافی مانگیں، پی ٹی وی، سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ پر چڑھائی کرنے والے کس منہ سے آج درس دے رہے ہیں؟
سابق وفاقی وزیر کاکہنا تھا کہ سول نافرمانی، ہنڈی، منتخب وزیراعظم کو گلے سے گھسیٹ لاؤ کے نعرے آج بھی لوگوں کے ذہن میں محفوظ ہیں، ایک طرف نالائق وزیراعظم مذاکراتی ٹیم کا دھوکہ دیتا ہے تو دوسری جانب سیاسی مخالفین کو گالیاں دیتا اور تضحیک کرتا ہے۔ حکومت کے پاس اپنی نالائقی اور نااہلی پر مبنی کارکردگی کے لئے کوئی بیانیہ موجود نہیں، شہبازشریف اور فضل الرحمن ہی نہیں پورا پاکستان آپ کو نااہل اور ناکام کہہ رہا ہے، پارلیمان کو تالا، اپوزیشن کو انتقامی کاروائی کا نشانہ، ہر مخالف آواز بند، ایسی فسطائیت کیخلاف کھڑے ہونا عین جمہوریت ہے، عوام مہنگائی، بے روزگاری اور خان کی حماقتوں سے نجات چاہتی ہے، عوام، اپوزیشن ، تاجر، مزدور، طلبہ اور میڈیا سب باہر نکلیں گے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.