پاکستانی تاریخ کی 12ویں ٹیکس ایمنسٹی اسکیم متعارف

نئی حکومت ،،، اور،،،، ایک نئی ٹٰیکس ایمنسٹی اسیکم ،،، کئی حکومتیں آئیں اور کئی ایمنسٹی اسکیم متعارف کروائی گئیں ،، مگر معیشت کو دستاویز کرنے اور ٹیکس نیٹ میں اضافہ کی خواہش پوری نہ ہوسکی ،،،یہ ہی وجہ ہے کہ پاکستانی معیشت کا جتنا حجم ہے اس کا 60 فیصد غیر دستاویزی معشیت پر منحصر ہے،، یعنی 300 ارب ڈالر کی معیشت کے سامنےٖ غیر دستاویزی اور کالےدھن کا حجم 180 ارب ڈالر ہے،، قیام پاکستان سے لے کر اب تک 11 ٹیکس ایمنسٹی اسکیم متعارف کروائی گئی ۔۔ جس مں پہلی اسکیم 1958 میں لائی گئی۔۔ دو اسکیموں میں 226 ارب روپے کا ٹیکس وصول ہوا ۔۔۔
جبکہ 9 ٹیکس ایمنسٹی اسکیموں صرف24 ارب روپے وصول ہوئے،، جو ان اسکیموں کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے،، ن لیگ کی حکومت نے 20 اپریل 2018 کو80 روز کی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم متعارف کروائی ،، اسکیم تو اچھی تھی مگر حکومت اپنی مدت پوری کرنے کے قریب قریب تھی جس کے باعث عوام پالیسوں میں خطرات کو دیکھتے ہوئے گھبراہٹ کا شکار رہے،،
گزشتہ اسکیم میں اثاثے ظاہر کرنے پرٹیکس کی شرح 5 فیصد تھی جبکہ نئی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم میں یہ شرح 4 فیصد رکھی گئی ہے ،،،
گزشتہ اسکیم میں غیر ملکی کرنسی ظاہر کرنے پر 2 فیصد ،، بیرون ملک پراپرٹی اور آف شور کمپنیوں کو ظاہر کرنے پر 3 فیصد اور بیرون ملک سے غیر ملکی کرنسی لانے پر 5 فیصد ادائیگی کرنی تھی ۔۔ جبکہ نئی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم میں بیرون ملک بے نامی اثاثے ظاہر کرنے پر 6 فیصد ٹیکس لاگو ہو گا اور اگر یہ ہی پیسہ پاکستان منتقل کردیا گیا تو اس صورت میں ٹیکس کی شرح 6 فیصد سے کم ہو کر 4 فیصد وصول کی جائے گی ۔۔ نئی ایمنسٹٰی ٹیکس اسکیم میں فروخت شدہ مال جو ظاہر نہیں کیا گیا اسے بھی 2 فیصد ٹیکس ادا کرکے رجسٹرڈ کروایا جاسکے گا

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.