نوازشریف کے خلاف ایک اور فیصلے کی گھڑی آگئی

احتساب عدالت میں فیصلہ سننے کے لیے میاں نواز شریف خود بھی جائیں گے اور لیگی رہنما بھی ساتھ ہوں گے تاہم کارکنوں کو عدالت آنے کی کال نہیں دی گئی۔ العزیزیہ ریفرنس کا تعلق حسین نواز سے جبکہ فلیگ شپ ریفرنس کا تعلق حسن نواز سے جڑتا ہے۔ نیب کا الزام ہے کہ نواز شریف نے وزارت اعلیٰ اور وزارت عظمیٰ کے دور میں حسن اور حسین نواز کے نام پر بے نامی جائیدادیں بنائیں، اس دوران بچے زیر کفالت تھے۔ شریف خاندان نے موقف اپنایا کہ قطری سرمایہ کاری سے العزیزیہ سٹیل ملز خریدی گئی، فلیگ شپ ریفرنس میں نواز شریف نے مؤقف اختیار کیا کہ ریفرنس مخالفین اور جے آئی ٹی کی جانبدار رپورٹ پر بنایا گیا، استغاثہ ان کے خلاف ثبوت لانے میں ناکام ہو گیا۔ احتساب عدالت نمبر ایک اور دو میں نوازشریف کیخلاف ریفرنسسز کی مجموعی طور پر 183 سماعتیں ہوئیں۔ العزیزیہ ریفرنس میں 22 اور فلیگ شپ ریفرنس میں 16 گواہوں کے بیانات قلمبند کیے گئے۔ نواز شریف 70 بار جج محمد بشیر اور 60 بار جج ارشد ملک کے روبرو پیش ہوئے۔ ایون فیلڈ میں سزا کے بعد نواز شریف کو 15 بار اڈیالہ جیل سے لاکر عدالت پیش کیا گیا۔ جج محمد بشیر نے 29 جبکہ جج ارشد ملک نے نواز شریف کو 20 سماعتوں پر حاضری سے استثنا دیا۔ فلیگ شپ ریفرنس میں کیپٹل ایف زیڈ بھی شامل ہے، نواز شریف اس کمپنی کے بورڈ کے چیئرمین بھی رہے جس بنیاد پر نواز شریف کی سپریم کورٹ سے نااہلی بھی ہوئی جبکہ حسن نواز اور حسین نواز کو مفرور ملزمان قرار دے دیا گیا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.