نریندرمودی نےمقبوضہ کشمیرمیں تاریخی غلطی کی

انڈین وزیراعظم نریندر مودی کی دوسری بار وزارت عظمیٰ کے سو دن مکمل ہونے پر برطانوی اخباردی گارڈین نے اپنے اداریے میں لکھا ہے کہ مودی سرکارنے آسام میں بیس لاکھ افراد کی شہریت منسوخ کرکے بغیر ملک کے چھوڑ دیا ہے۔ شواہد سے پتا چلتا ہے کہ جن کی شہریت منسوخ کی گئی، ان میں اکثریت مسلمانوں کی ہے۔ مودی کے قریبی ساتھی نے مسلمانوں کو ’دیمک‘ اور ’حملہ آور‘ قرار دیتے ہوئے بنگال کے سمندر میں پھینکنے کا کہا۔ خطرہ ہے کہ بھارت نسلی امتیاز پر مبنی جمہوریت بن جائے گی جہاں شہریوں کے دو طبقے ہونگے۔برطانوی اخبار دی گارڈین کا کہنا ہے کہ مودی اور اس کی جماعت نے ہمیشہ پرچار کیا کہ مسلم اکثریتی ریاست مقبوضہ جموں وکشمیر کو غیر ضروری آئینی تحفظ حاصل ہے۔ بی جے پی ہمیشہ مضحکہ خیز دعویٰ کرتی رہی کہ کشمیر میں عسکریت پسندی کی وجہ وادی کی خصوصی حیثیت تھی۔برطانوی اخبارکا کہنا تھا کہ مودی نے مقبوضہ کشمیر کو کھلی جیل میں تبدیل کر دیا ہے، جہاں کے مکینوں کا باہر کی دنیا سے رابطہ کاٹ دیا گیا ہے۔دی گارڈین نے دنیا پر واضح کردیا کہ مودی نے کشمیر میں تاریخی غلطی کی ہے۔ مودی پہلے ہی آہنی ہاتھوں سے کشمیر پر حکومت کر رہا تھا۔مودی نے عام انتخابات کو اپنی شخصیت کے لیے ووٹ کی طلب میں بدل دیا۔اب مودی حکومت پولیس اور ٹیکس اتھارٹی کو سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔
ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.