مولے نوں مولا نہ مارے،تے مولا نہیں مردا

پنجابی فلموں کے سلطان اداکار سلطان راہی انیس سو اڑتیس میں بھارتی شہر سہارن میں پیدا ہوئے، انہوں نے انیس سو چھپن میں فلم انڈسٹری میں قدم رکھا اور انیس سوانسٹھ میں ریلیز ہونے والی فلم “باغی”سے باقاعدہ طور پر اپنے فلمی کریئر کا آغاز کیا۔

گنڈاسہ تھام کر دشمن کو للکارنے کا انداز سلطان راہی نے ہی فلم انڈسٹری میں متعارف کرایا، ستر کی دہائی میں فلم”بشیرا” ایسے فن کا مظاہرہ کیا کہ جس نے انہیں اداکار سےسٹار بنا دیا۔ انیس سو اناسی میں فلم “مولا جٹ” میں سلطان راہی اور مصطفیٰ قریشی کی جوڑی فلم کی کامیابی کی ضمانت بنی اور فلم نے باکس آفس پر کامیابی کے جھنڈے گاڑ دیئے

سلطان راہی کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ ان کی پانچ فلمیں شیر خان، ظلم دا بدلہ، اتھرا پتر،چن وریام اور سالا صاحب ایک ہی روز ریلیز ہوئیں اورتمام سپرہٹ ثاہت ہوئیں ۔

سلطان راہی نے اردو اور پنجابی کی سات سو پچاس سے زائد فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے جس پر ان کا نام گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں بھی شامل کیا گیا ۔ انہیں فنکارانہ صلاحیتوں پرایک سو پچاس سے زائد فلمی ایوارڈز سے بھی نوازا گیا۔

سلطان راہی 9جنوری انیس سو چھیانوے کو اسلام آباد سے لاہور آ رہے تھے کہ گوجرانوالہ کے قریب نامعلوم افراد نے انہیں قتل کردیا، وفات کے وقت بھی سلطان راہی کی چون فلمیں زیر تکمیل تھیں جو ایک ورلڈ ریکارڈ ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.