مودی الیکشن جیتےکےبعد کشمیریوں کاتشخص ختم کرنے کے درپے

بھارتی آئین میں جموں کشمیر کی خصوصی شہریت کے حق سے متعلق دفعہ 35اے کی رُو سے جموں کشمیر کی حدود سے باہر کسی بھی علاقے کا شہری ریاست میں غیرمنقولہ جائیداد کا مالک نہیں بن سکتا، یہاں نوکری حاصل نہیں کرسکتا اور نہ کشمیر میں آزادانہ طور سرمایہ کاری کرسکتا ہے۔لیکن اب مودی کی ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی گزشتہ 70 سال سے کشمیر سے متعلق بھارتی آئین میں موجود اُن تمام حفاظتی دیواروں کو گرانا چاہتی ہے ۔کشمیریوں کو خدشہ ہے کہ اگر یہ حفاظتی دیوار گر گئی تو وہ فلسطینیوں کی طرح بے وطن ہوجائیں گے
مکارمودی سرکار نےاپنےاس شرانگیزمنصوبے کاابتدائی خاکہ تیارکرلیاہے،بھارت کی مکاری کاپہلاشکارجموں وکشمیرکی ریاستی اسمبلی بنےگی،جس کی سیٹیں بڑھاکر بی جے پی زیادہ سےزیادہ نشستیں جیت کرمقبوضہ وادی میں ہندو حکومت لاناچاہتی ہے۔ مقبوضہ وادی میں ہندووزیراعلیٰ لانا بی جےپی کاخواب ہے،وادی کے22اضلاع میں سے 20میں اس وقت ہندوڈی پی اوتعینات ہیں،مسلم اکثریتی وادی مقبوضہ کشمیرکی ہائیکورٹ میں صرف 2جج مسلم ہیں جبکہ زیادہ ترانتظامی مشینری میں بھی ہندوشامل ہیں۔
منصوبے کاایک حصہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ہندوؤں کی آبادکاری ہے،، جس کیلئے انتہاپسندہندوتنظیموں بجرنگ دل،آرایس ایس اوردیگر کو مسلمانوں کو دبانے کافری ہینڈدیاگیاہے۔ کروڑوں کی تعداد میں غیرمسلم آبادکار یہاں بس گئےتووہ کشمیری عوام کی زمینوں، وسائل اور روزگار پر قابض ہوجائیں گے۔
MONTAGE
بھارتی حکومت اپنے منصوبے کی تکمیل کی راہ میں تحریک آزادی کوسب سےبڑی رکاوٹ گردانتی ہےجس کےخاتمےکیلئےتمام ظالمانہ ہتھکنڈوں کااستعمال کیاجارہاہے۔مقبوضہ کشمیرمیں کام کرنے والی انسانی حقوق کی تنظیموں کےمطابق روزانہ بیگناہ کشمیری نوجوانوں کوشہید کیاجارہاہے،مئی میں 34کشمیری نوجوان بھارتی بربریت کی بھینٹ چڑھے،1989ء سےاب تک 95ہزارسےزائدکشمیری باشندے جدوجہد آزادی پرقربان ہوچکےہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.