ملکی اور غیرملکی کوچ کی بحث ایک بار پھر سراٹھانے لگی

ورلڈ کپ کے بعد موجودہ کوچز کی چھٹی اور نئے اسٹاف کی بھرتی کے امکانات کے ساتھ ہی ایک بار پھر ملکی اور غیرملکی کوچز کی بحث ہونے لگی ہے۔ سابق کپتان اور عظیم بیٹسمین جاوید میاندار کا کہنا ہے کہ کہ صرف مقامی کوچ کا تقرر کرنا چاہیے جوکرکٹنگ سسٹم کو اچھی طرح سمجھتا اور اپنے اسٹیٹس کے معیار سے مضبوط ٹیم تشکیل دے سکے۔انھوں نے کہا کہ اگر ویوین رچرڈز یا ای ین بوتھم جیسے عظیم پلیئرز کو کوچنگ کی ذمہ داری دی جائے تو بات سمجھ میں بھی آتی ہے کہ وہ پاکستان کرکٹ میں کسی قسم کی صلاحیت لاسکتے ہیں ، بصورت دیگر غیرملکی کوچز ہمارے پلیئرز کو آگے لے جا ہی نہیں سکتے۔ رچرڈز اور بوتھم کھلاڑیوں کو وہ سب کچھ سکھا سکتے ہیں جو انھوں نے اپنے کیریئر کے دوران خود کھیلتے ہوئے سیکھا۔ ایسے کوچز جنھوں نے صرف کورس کررکھے ہوں اور کمپیوٹر کے آگے بیٹھ کر تجزیوں سے کھلاڑی کو بہتر نہیں بنا سکتے۔ جاوید میانداد نے کہا کہ ہمارے وہ سابق کھلاڑی جنھوں نے کھیل میں اپنا نام کمایا انھیں کوچنگ کی ذمہ داری دینا چاہیے۔محمد حفیظ، عماد وسیم، بابر اعظم میں سے کسی ایک کو ون ڈے ٹیم کی قیادت سونپنے کے امکانات پر میانداد نے کہاکہ پی سی بی کو پہلے اپنی ترجیحات کا تعین کرنا چاہیے۔ کسی بھی ایسے کھلاڑی کو ذمہ داری نہ دی جائے جو اپنے اچھے دن گزار چکا ہو۔ بورڈ کو فیصلہ کرنا ہے کہ اسے آگے کی جانب جانا ہے یا پیچھے۔ نئے آغاز کیلیے بطور قائد نیا چہرہ سامنے لانا چاہیے۔ جاوید میانداد نے ایک بار پھر ڈپارٹمنٹل کرکٹ اورڈومیسٹک کرکٹ میں 11 سے 12 ٹیموں کو کھلانے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.