مقبوضہ کشمیر کو دنیا کی سب سےبڑی جیل بنے231 واں روز

بھارت نےجنت نظیر وادی کو درد کی تصویر بنا ڈالا، کرفیو اور لاک ڈاؤن 231 ویں روز بھی ختم نہ ہوا۔ دنیا کی سب سے بڑی جیل میں قید کشمیری مسلسل ظلم وستم سہنے پرمجبور ہیں۔وادی میں سکول،کالج اورکاروباری مراکز بند ہیں۔ پبلک ٹرانسپورٹ بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔موبائل فون اورانٹرنیٹ سروس بھی تاحال بحال نہ ہو سکی۔
کشمیری سسک سسک کے دم توڑنے لگے۔طویل اور بد ترین کرفیو کے باعث مقبوضہ کشمیر میں اشیا خوردونوش اور ادویات کی شدت قلت برقرار ہے،جس کے باعث متعدد کمشیریوں کی زندگی کے چراغ بجھ گئے،،دوسری جانب کرونا وائرس کے کیسز سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید سنگین ہو چکی ہے
دوسری جانب مار دھاڑ اور پکڑ دھکڑ کا سلسلہ بھی جاری ہے۔5 اگست سے اب تک سینکڑوں کشمیری شہید، زخمی اور حریت رہنماوں سمیت قید و بند میں ہیں ۔ تاہم کشمیریوں کی آہوں اور سسکیوں پرعالمی برادری،اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی عالمی تنظمیوں کی خاموشی بر قرار ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: