مقبوضہ کشمیر میں مسلسل کرفیو اورلاک ڈاؤن کے 161 روز

مقبوضہ کشمیرمیں 6 ماہ سے جاری بد ترین کرفیونے مقبوضہ وادی کو چھاؤنی بنا رکھا ہے۔ وادی میں 161 روز سے تجارتی مراکز بند ہیں۔ انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس بھی تاحال معطل ہے۔ وادی میں کھانے پینے کی اشیا کی شدید قلت ہے بیاری کی صورت میں ادویات تک میسر نہیں۔ دوسری جانب شدید موسمی حالات اوربرف باری سے کشمیریوں کی مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔ 80 لاکھ کشمیری بھارتی جبر سے نجات کیلئے دنیا کی طرف دیکھ رہے ہیں۔
مقبوضہ کشمیر میں بنیادی انسانی حقوق کی پامالی عروج پر ہے اور قابض فورسز گھر گھر چھاپے مارکر بے گناہ کشمیریوں کو گرفتار کر رہی ہے۔5 اگست سے جاری کرفیو اور پابندیوں کے دوران بھارتی فوج خواتین سمیت درجنوں کشمیریوں کو شہید کرچکی ہے۔ قابض،ظالم فوج کے ساتھ جھڑپوں میں متعدد کشمیری زخمی ہوئے،سینکڑوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
مقبوضہ وادی میں تمام ترپابندیوں کے باوجود آزادی کے متوالے بھارتی مظالم کے خلاف بھرپور احتجاج کر رہے ہیں۔ شہر شہر ہونے والے مظاہروں میں حریت رہنماوں، کارکنوں اور زیرحراست کشمیریوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ آزادی کے حق میں نعرے پورے کشمیر میں گونج رہے ہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ نہتے کشمیریوں پر انسانیت سوز مظالم اورحریت رہنماؤں کو نظربند رکھ کر کشمیریوں کو جدوجہد آزادی جاری رکھنے سے نہیں روکاجاسکتا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.