مقبوضہ کشمیر میں بد ترین مظالم نےامریکی وکلا کے دل دہلا دیے

مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بد ترین پامالیوں نے امریکی وکلا کے بھی دل دہلا دیے،، امریکی وکلا نے کانگریس سے مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی پامالیوں کا نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت نے بنیادی انسانی حقوق ترک کردئیے، کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی حمایت کی جائے۔دوسری جانب کشمیریوں کے نعروں نے دلی والوں کو دل دہلا دئیے۔ بھارت کے ساتھ نہیں رہیں گے،،اور نظام مصطفیٰ کے نعرے لگا دیے۔
مقبوضہ کشمیرمیں بدترین کرفیو اورلاک ڈاؤن کو163 روز ہو گئے،،
قید و بند نے کشمیریوں کی زندگی اجیرن بنا دی۔سکول، کالجز، دفاتر اور تجارتی مراکز بھی بند ہیں، انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس بھی تاحال معطل ہے۔ وادی میں کھانے پینے کی اشیا کی شدید قلت ہے۔ بچے بھوک سے دم توڑنے لگے۔ ادھر برف باری نے کشمیریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ۔
80 لاکھ کشمیری بھارتی جبر سے نجات کیلئے دنیا کی طرف دیکھ رہے ہیں۔بہادر کشمیریوں کی بڑی تعداد تمام تر پابندیوں کے باوجود آئے روز اپنے حقوق کے لیے قابض فوج کے خلاف مظاہرے کر رہی ہے۔ تاہم عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں کی مجرمانہ خاموشی تا حال برقرار ہے۔

 

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.