معاشی ترقی کے حکومتی دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے

0

وزارت توانائی اور وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق توانائی کی مد میں دی گئی سبسڈیز ایڈجسٹ کرنے کے بعد رواں مالی سال جولائی تا دسمبر کے عرصے کے دوران گردشی قرضے میں ہونے والا اضافہ 17 ارب روپے ماہانہ تھا، جبکہ گردشی قرض میں اضافے کے حوالے سے حکومتی کا دعویٰ 10 ارب روپے ماہانہ تھا۔ سبسڈیز کے بغیر گردشی قرضے میں اضافے کی اوسط 29 ارب روپے ماہانہ تک جا پہنچی ہے۔
حکومت نے رواں مالی سال کے ابتدائی نصف میں توانائی کی سبسڈیز کی مد میں 73 ارب روپے ادا کیے۔ شعبہ توانائی بجلی مہنگی کر کے صارفین پر405 ارب روپے کا اضافی بوجھ ڈالنے کے باوجود خراب ہے۔ وزارت توانائی کے ذرائع کے مطابق حکومت سال میں پانچویں بار بجلی کی قیمت میں فی یونٹ 30 پیسے اضافہ کرنے جارہی ہے۔
ترجمان پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ پہلے سال میں گردشی قرضے میں اضافہ ہوا کیوں کہ اقدامات کرنے میں وقت لگ گیا اورمطلوبہ نتائج حاصل کرنے کیلئے بہت کم وقت بچا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ رواں مالی سال کے ابتدائی 6 ماہ میں گردشی قرضے میں اضافہ 39 ارب سے 15 ارب ماہانہ پرآ گیا۔ اگرحکومت نے کوششیں نہ کی ہوتیں تو پھر نصف سال میں گردشی قرضے مزید 300 ارب روپے بڑھ جاتے۔
آئی ایم ایف نے رواں مالی سال کیلئے گردشی قرض میں اضافے کا ہدف پہلے ہی 81 ارب سے بڑھا کر 134 ارب روپے کر دیا تھا۔ 6 ماہ کی کارکردگی کے پیش نظرجون تک گردشی قرض میں اضافے کو134 ارب تک محدودرکھنا بھی مشکل لگتا ہے۔ تاہم وزارت توانائی کے ذرائع کیمطابق پچھلے ایک سال میں بجلی کے نرخوں میں اضافے کے ثمرات مالی سال کے بقیہ عرصے میں حاصل ہوں گے جس سے گردشی قرضے کو محدود رکھنے میں مدد ملے گی۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: