!!!مشرقی وسطیٰ میں جاری سنگین کشیدگی

فرانسیسی حکام نے واضح کیا کہ فرانس امریکا اورایران میں سےکسی کو بھی مذاکرات کی میز پر آنےپرمجبور نہیں کرسکتا۔خلیجی خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہماری سفارت کاری کا جواز پیش کرتا ہے،ایران معاشی پابندیوں کے خاتمے کے بغیر امریکا سےمذاکرات نہیں کرے گا۔فرانسیسی حکام کا مزید کہنا تھا کہ ہم جلد ہی سعودی عرب پر حملوں کے بارے میں کسی نتیجے پر پہنچیں گے۔ فرانس خطے میں کشیدگی نہیں چاہتا اور تمام فریقین سے صبرو تحمل سے کام لینے پر زور دیتا ہے۔دوسری جانب ایرانی وزیرخارجہ محمد جواد ظریف نےامریکا کی طرف سےمشرق وسطیٰ میں پر امن حل کے اتحاد بنانے پر سوالات اٹھادیئے۔جواد ظریف کاکہنا تھا کہ 1985 کے بعد ایران خلیجی خطےمیں آٹھ مختلف امن منصوبے پیش کر چکا ہے، اس میں سن 2015 میں یمن میں قیام امن کا پلان اور رواں برس کے اوائل میں خلیج کے خطے میں عدم جارحیت کے معاہدے کی تجویز بھی شامل ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.