مسلمان سیاستدان بھی مذہب کے نام پرامریکا میں نشانہ بننے لگے

امریکا میں مسلم سیاستدان کو بھی مذہب کی بنیاد پر نشانہ بنایا جانے لگا، ساتھی ارکان مسلم ری پبلکن ڈاکٹر شاہد شفیع کو کاؤنٹی وائس چیئر مین شپ سے ہٹانے کے لیے قرار داد لے آئے۔ امریکا کی ریاست ٹیکساس کی ٹیرینٹ کاؤنٹی میں ری پبلکن پارٹی کے مسلم رکن اور پارٹی وائس چیئرمین شاہد شفیع کو ہٹانے کی کوشش ناکام ہوگئی۔ شاہد شفیع کو مسلمان ہونے پر ہٹایا جائے یا نہیں؟ اس معاملے پر ٹیکساس کی کاؤنٹی ٹیرنٹ میں ووٹنگ ہوئی، جس میں ری پبلکن ارکان نے ووٹ دیئے اور ڈاکٹر شاہد شفیع کامیاب ہو گئے۔ ۔
MONTAGE
مخالفین کا کہنا ہے کہ انہیں خدشہ ہے کہ شاہد شفیع امریکی آئین میں اسلامی نظریات نہ شامل کر دیں تاہم گورنر گریگ ایبٹ، سینیٹر ٹیڈ کروز، جارج پی بش اور سابق ہاؤس اسپیکر نے شاہد شفیع کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔مسلم ری پبلکن رکن شاہد شفیع کا کہنا ہے کہ یہ پہلا موقع نہیں جب مختلف افراد یا ان کے سیاسی مخالفین نے مذہب کو استعمال کر کے ووٹرز کو منتشر کیا ہو۔ ڈاکٹر شاہد شفیع ٹراما سرجن اور ساؤتھ لیک سٹی کونسل مین ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.