مسلسل کرفیو کا ساتواں مہینہ،کشمیرمیں زندگی سسکنے لگی

0

جنت نظیر وادی کوبھارت نے جہنم بنا دیا، مسلسل کرفیو اورلاک ڈاؤن کا ساتواں مہینہ شروع ہو گیا۔ کشمیریوں کے معمولات زندگی برباد ہو چکے ہیں۔ سکول،کالج اورکاروباری مراکز بند ہیں۔ دنیا کی سب سے بڑی جیل میں قید کشمیری مسلسل ظلم وستم سہنے پرمجبور ہیں۔ سری نگرسمیت تمام بڑے شہروں میں جگہ جگہ بھارتی فوجی تعینات ہیں جبکہ دکانیں، کاروباری مراکز اور تعلیمی ادارے بند ہیں۔ سڑکوں پر ٹرانسپورٹ بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔ موبائل فون اورانٹرنیٹ سروس معطل ہونے سے کشمیریوں کا ساری دنیا سے رابطہ کٹ چکا ہے۔
مقبوضہ کشمیر میں ظلم و جبر کی نئی داستان رقم ہو رہی ہے۔ کشمیری وادی کے اندر ہی سسک سسک کے دم توڑنے لگے۔ 186 روز کے طویل کرفیو کے باعث مقبوضہ کشمیر میں اشیا خوردونوش، ادویات کی کمی پیدا ہو گئی اور وادی کے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ دنیا بھر میں مودی سرکار کے اقدامات کی مذمت کی جارہی ہے اورکشمیریوں سمیت امن پسند لوگ مودی سے وادی سے کرفیو کو ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نے جموں و کشمیر پر لاگو آرٹیکل 370 اور35 اے کی منسوخی کا فیصلہ کیا اور5 اگست 2019 کو بھارتی صدرنے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آئین کے آرٹیکل 370 کوختم کرنے کے بل پر دستخط کیے۔پاکستان نے مظلوم کشمیریوں کی ترجمانی کرتے ہوئے مسئلہ کشمیرکو ہربین الاقوامی پلیٹ فارم پراجاگر کیا۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: