قتل اورڈکیتی کےملزمان کی سزائے موت کےخلاف اپیل کا معاملہ

سپریم کورٹ لاہوررجسڑی میں قتل اور ڈکیتی کے 7 ملزمان کی سزائے موت کے خلاف اپیل کی ویڈیو لنک کے ذریعے سماعت ہوئی۔ عدالت نے عدم شواہد کی بنیاد پر ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قراردیتے ہوئےساتوں ملزمان کو بری کردیا۔چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ عام طور پر پولیس کو معلوم ہوتا ہے کہ علاقے میں ڈکیتیاں کون کرتا ہے، بعض اوقات پولیس کے کہنے پر بھی مقدمات میں ملزمان کے نام شامل کرلیے جاتے ہیں، شاید اس کیس میں بھی ملزمان کے نام اسی طرح شامل کیے گئے۔دوسری جانب چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے نئے عدالتی سال کے موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم بطور ادارہ اس تاثر کو کہ ملک میں جاری احتساب سیاسی انجنیئرنگ ہے بہت خطرناک سمجھ رہے ہیں۔ ہم آئین اور قانون کے مطابق اپنا کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہیں، عدالتی عمل میں دلچسپی رکھنے والے درخواست دائر کریں جسے سن کر فیصلہ ہوگا۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ ازخود نوٹس سے متعلق آئندہ فل کورٹ میٹنگ تک مسودہ تیارکرلیا جائے گا،، انہوں نے سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کو مشکل ترین قراردے دیا،،

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.