عالمی ادارہ صحت کے فنڈ روکنا قابل مذمت

0

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عالمی ادارہ صحت کو فنڈنگ روکنے کے فیصلے کو چین اور روس نے کرونا وائرس کے خلاف عالمی کوششوں کو دھچکا قرار دیتے ہوئے مذمت کی ہے۔
چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤلی جیان نے بریفنگ کے دوران کہا ہے کہ ڈبلیو ایچ او کو فنڈ نہ دینے کے امریکی فیصلے سے کووڈ-19 کے خلاف عالمی کوششوں کو نقصان پہنچے گا اور چین کا اس پر گہری تشویش ہے۔ڈبلیو ایچ او کے حالیہ کردار کو سراہتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘خاص کر جب سے کووڈ-19 کی وبا پھیلی ہے اس وقت سے ڈبلیو ایچ او نے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ادہانوم گیبریسس کی قیادت میں اپنے فرائض کو تندہی سے ادا کیا ہے اور رابطہ کاری کا کردار ادا کیا ہے’۔
ژاؤلی جیان کا کہنا تھا کہ ‘ڈبلیو ایچ او نے عالمی تعاون کو بڑھانے میں سرگرم کردار ادا کیا ہے’۔’وبا کی عالمی صورت حال کو دیکھتے ہوئے امریکا کے فیصلے سے ڈبلیو ایچ او کی استعداد کمزور ہوگی اور کووڈ-19 کے خلاف جنگ سرد پڑے گی’۔ان کا کہنا تھا کہ امریکا اپنے فرائض کو فوری ادا کرے اور ڈبلیو ایچ او سے تعاون کرے کیونکہ ‘اس فیصلے سے امریکا اور غریب اقوام سمیت دنیا کے تمام ممالک متاثر ہوں گے’۔انہوں نے کہا کہ چین انسداد وبا کے حوالے سے اقدامات میں سربراہی کردار کے لیے ڈبلیو ایچ سے تعاون جاری رکھے گا۔
دوسری جانب روس کے نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ڈبلیو ایچ او کے حوالے سے فیصلے کی مذمت کی اور کہا کہ یہ ان کا خود غرض فیصلہ ہے۔ امریکا کا یہ اعلان تشویش ناک ہے۔انہوں نے کہا کہ ‘امریکی حکام کی خودغرضی کی یہ ایک مثال ہے حالانکہ وبا کی وجہ سے دنیا میں کیا کچھ ہو رہا ہے’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘یہ عالمی ادارے کے لیے ایک دھچکا ہے اور عالمی برادری کئی حوالوں سے اس کو قابل مذمت اور قابل ملامت قدم کے طور پر دیکھ رہی ہے

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: