سپریم کورٹ کانجی سکولوں کو2017والی فیس وصول کرنےکا حکم

چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نےفیسوں سے متعلق درخواست پر کیس کی سماعت کی،،، جس کا 69 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جسٹس اعجازلحسن نے تحریر کیا جب کہ فیصلے میں جسٹس فیصل عرب نے اختلافی نوٹ تحریر کرتے ہوئے کہا ہے کہ سالانہ فیسوں میں 5 فیصد اضافے کی حد مقرر کرنا مناسب نہیں،سپریم کورٹ کی جانب سے جاری تفصیلی فیصلے میں نجی سکولوں کی فیسوں میں 2017 کے بعد کیا گیا اضافہ کالعدم قرار دیا گیاہےاور نجی سکولوں کی فیسوں کو جنوری 2017 کی تاریخ تک منجمد کرنے کا حکم بھی دیا گیا۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہےکہ نجی سکولوں نے 2017 سے خلاف قانون فیس میں بہت زیادہ اضافہ کیا،نجی سکولوں کی فیس وہی ہوگی جو جنوری 2017 میں تھی، فیسوں میں کی گئی 20 فیصد کمی والدین سے ریکور نہیں کی جائے گی، نجی سکول قانون کے مطابق اپنی فیسوں کا دوبارہ تعین کریں۔
سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ سکولوں کی فیس کی ری کیلکولیشن کی نگرانی متعلقہ ریگولیٹری اتھارٹی کرے گی، متعلقہ اتھارٹی کی منظور شدہ فیس ہی والدین سے لی جاسکے گی، والدین سے لی گئی اضافی فیس آئندہ فیس میں ایڈجسٹ کی جائے،ریگولیٹرز سکولوں کی جانب سے وصول کی جانے والی فیس کی نگرانی کریں۔عدالت نے حکم دیا کہ سکول فیس سے متعلق شکایات کے ازالے کے لیے کمپلینٹ سیل بنایا جائے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.