سپریم کورٹ نے نامکمل تحقیقات پرنیب کارروائیوں سے متعلق سوال اٹھا دیا

0

نیب ملزم فیصل کامران قریشی کی درخواست ضمانت کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے جسٹس مشیر عالم نے اپنے ریمارکس میں کہا نیب ملزم کی گرفتاری کے بعد گواہیاں اور ثبوت ڈھونڈتا رہتا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ نیب ساری کارروائی، تحقیقات مکمل کر کے گرفتار کیوں نہیں کرتا۔ کسی کو پھانسی لگانا ہے لگا دیں، کسی کو سزا دینا ہے دے دیں۔ جسٹس مشیر عالم نے استفسار کیا کہ نیب انکوائری تحقیقات معاملات میں جلدی کیوں نہیں کرتا۔
نیب کے وکیل نے بتایا کہ ملزمان کی گرفتاری ریکارڈ میں ٹمپرنگ کے خدشے کے پیش نظر کی جاتی ہے۔ نیب وکیل کا موقف تھا کہ ملزم فیصل کامران نے سٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاری کے نام پر لوگوں کے ساتھ فراڈ کیا۔ ریفرنس دائرکردیا، کوشش کریں گے ریفرنس پرجلد کارروائی مکمل ہو جائے۔
ملزم کے وکیل نے بتایا کہ ان کے موکل کے ذمہ رقم ادا کردی گئی ہے۔ ایف آئی اے میں بھی یہی کیس میرا موکل بھگت چکا ہے۔ نیب کے وکیل کا کہنا تھا کہ ملزم نے فراڈ کی پوری رقم ادا نہیں کی۔ عدالت نے ملزم کے وکیل کی جانب سے درخواست ضمانت واپس لینے پرخارج کر دی۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: