سپریم کورٹ، فیض آباد دھرنا کیس کا تحریری فیصلہ جاری

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس مشیر عالم پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے 22 نومبر کو فیض آباد دھرنے کا محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ہر شخص کو قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے سیاسی جماعت بنانے یا رکن بننے کا حق ہے، ہرکسی کو پر امن احتجاج کرنے کا حق حاصل ہے، احتجاج کے دوران سڑکیں بند اور توڑ پھوڑ کرنے والوں کیخلاف لازمی کارروائی ہونی چاہئے، الیکشن کمیشن متعلقہ قوانین پر عملدرآمد نہ کرنے والی سیاسی جماعت کیخلاف کارروائی کرےاور یہ کارروائی رسمی نہیں ہونی چاہیے، ہر سیاسی جماعت اپنے ذرائع آمدن سے متعلق جوابدہ ہے۔تحریری فیصلے میں مزید کہا گیا کہ ریاست کا رویہ غیر جانبدار اور شفاف ہونا چاہیے، قانون کا اطلاق حکومت اور اداروں پر یکساں طور پر ہوتا ہے، سانحہ 12 مئی کے ذمہ دار حکومتی عہدیداروں کو سزا نہ ملنے سے غلط روایت پڑی اور ریاست کی ناکامی نے دیگر لوگوں کو اپنے مقصد کیلئے تشدد کی راہ دکھائی۔ اس موقع پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے قائداعظم کے فرمودات پڑھ کر سنائے ۔انہوں نے کہا قائداعظم نے فرمایا مسلمانوں کو خبردار کرتا ہوں غصے پر قابو رکھیں، ردعمل عقلی دلیل کے تابع ہونا چاہیئے جبکہ ردعمل سے ریاست کو خطرات میں نہیں ڈالنا چاہیئے ورنہ لاقانونیت ملک کی بنیادیں ہلا دے گی۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.