سانحہ ساہیوال کی تحقیقات،انتہائی دردناک انکشافات

سانحہ ساہیوال کے متاثرین نے جے آئی ٹی کو بیان قلم بند کرا دیا،، بیان دینے والوں میں جاں بحق خلیل کا عینی شاہد بیٹا 8 سالہ عمیر خلیل بھی شامل ہے جس کا بیان تحریری طور پر جے آئی ٹی کو دیدیا گیا ،،،بچےعمیر خلیل نے بتایا کہ پیچھے سے کسی نے گاڑی پر فائر کیا،جس کے باعث گاڑی فٹ پاتھ سے ٹکرا کر رک گئی، پولیس کے دو ڈالے تیزی سے گاڑی کے پاس آ کر رکےاور نقاب پوش اہلکاروں نے فائرنگ کرکے انکل ذیشان کو مار دیا۔بچے نے بتایا کہ ذیشان کو مارنے کے بعد پولیس اہلکاروں نے فائرنگ روک دی اور فون پر کسی سے بات چیت شروع کر دی،ابو نے کہا جو چاہے لے لو لیکن ہمیں نہ مارو،معاف کردو،فون بند ہونے کے بعد اہلکار نے ساتھیوں کو اشارہ کیا جس پر انہوں نے دوبارہ فائرنگ شروع کردی۔ فائرنگ کے بعد پولیس اہلکاروں نے مجھے اور دونوں بہنوں کو نکال کر دوبارہ گاڑی پر فائرنگ کی۔بچے عمیر خلیل نے جے آئی ٹی کو بتایا کہ پولیس والے ہم تینوں کو ڈالے میں ڈال کر لے گئےاور ویرانے میں پھینک کر چلے گئے،،،تاہم ایک انکل نے ہمیں اٹھا کر پٹرول پمپ پر چھوڑ دیا، پولیس والے واپس آئے، ہمیں اپنی گاڑی میں بٹھایا اورہسپتال چھوڑدیا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.