دوسری شادی سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہر من اللہ نے 12 صفحات پر مشتمل کیس کا تحریری فیصلہ جاری کیا جس میں کہا گیا کہ مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961ء کے مطابق اجازت کے بغیر شادی کرنے والے شخص پر سزا اور جرمانہ ہوگا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے دوسری شادی کیس میں آزاد کشمیر کے رہائشی لیاقت علی میر کو ایک ماہ قید اور5 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی۔ اس سے قبل ایڈیشنل سیشن جج نے کشمیر کا باشندہ ہونے کی وجہ سے لیاقت علی کو بری کیا تھا۔ایڈیشنل سیشن جج کی جانب سے بری کیے جانے کے فیصلے پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ جس شخص کے پاس قومی شناختی کارڈ ہے، اس پر تمام قوانین کا اطلاق ہوگا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے پہلی بیوی کی اپیل پر لیاقت علی میر کی بریت کو کالعدم قرار دیا اور ماتحت عدالت کو حکم دیا کہ ایڈیشنل سیشن جج میرٹ پر لیاقت علی میر کی دوسری شادی کیس کا فیصلہ کریں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ نکاح اسلام آباد میں رجسٹرڈ ہے، جو عدالت کے مکمل دائرہ اختیار میں ہے۔ دلشاد بی بی اور لیاقت علی میر نے 2011ء میں پسند کی شادی کی تھی۔ تاہم 2013ء میں لیاقت علی میر نے بیوی اور مصالحتی کونسل کی اجازت کے بغیر دوسری شادی کر لی تھی۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.