دریائے ستلج میں پانی کی سطح 20 فٹ تک پہنچ گئی

قصور میں دریائے ستلج میں پانی کی سطح گنڈا سنگھ کے مقام پر 70 ہزار کیوسک تک پہنچ گئی۔ پانی کے بہاؤ میں مسلسل اضافے کے باعث قریبی بستیاں زیر آب آگئیں جس سے فصلوں کو نقصان پہنچا، مویشی بھی ہلاک ہوئے۔ترجمان این ڈی ایم اے نے کہا ہے کہ دریائے ستلج میں پانی کا بہاؤ مسلسل بڑھ رہا ہے،دریا کے اطراف قصور میں 18 دیہات زیر آب آگئے جبکہ 3 انتہائی متاثرہ دیہاتوں کو 90 فی صد تک خالی کروا دیا گیا ہے۔این ڈی ایم اے کے مطابق انتہائی متاثرہ دیہات میں مستی کے، چدر سنگھ اور بکی ونڈ شامل ہیں۔ این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ دریا کے اطراف نشیبی علاقوں کے رہائشیوں کی منتقلی کا پلان تیار کر لیا گیا ہے، متاثرین کے لیے ہنگامی کیمپس قائم کر دیے گئے ہیں۔سیلاب کے باعث ہیڈ گنڈا سنگھ کا رابطہ دیگر علاقوں سے منقطع ہو چکا، زرعی اراضی زیر آب آ گئی، 1500 متاثرین محفوظ مقام پر منتقل کر دیے گئے ہیں۔ جبکہ پاک فوج کے جوان بھی ریسکیو آپریشن میں بھرپور حصہ لے رہے ہیں۔ادھر دریائے راوی میں سیلابی صورتحال ہے،،،پانی کے تیز بہاؤ کی وجہ سے سید والہ راوی پل ٹریفک کیلئےبند کر دیا گیا۔ بہاولنگر کے قریب ہیڈ سلیمانکی کے مقام پر پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ جہاں پانی کی آمد 30 ہزار 993اور اخراج 18880 کیوسک ریکارڈ کی گئی۔دوسری جانب راجن پور میں دریائے سندھ میں پانی کی سطح بلند ہونے سے کوٹ مٹھن میں کئی دیہات ڈوب گئے،فصلیں بھی تباہ ہوگئیں۔ دادو میں سیلابی ریلا تحصیل میہڑ میں داخل ہوگیا جس سے پورا گاؤں تباہ ہوگیا، لوگوں کے مکان گر گئے، 5 ہزار خاندان بے گھر ہوگئے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.