جیب اجازت دے تو چاند پر اب کوئی بھی جا سکتا ہے

ناسا نے خلائی اسٹیشن کو کاروبار کے لیے کھولنے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ وہاں کا دورہ کوئی معمولی بات نہیں اورنہ ہی اتنا کم قیمت ہوگا۔ ناسا کے مطابق خلائی سٹیشن کے دورے پر جانے والے شخص کو کھانے پینے کے اخراجات کے علاوہ یومیہ 11ہزار 250 ڈالر خرچ کرنا ہوں گے، جس میں باتھ روم کی سہولت بھی شامل ہے۔ کھانے پینے کی مد میں یومیہ 22 ہزار 500 ڈالر جبکہ رات سونے کے لیے بستر وغیرہ کی مد میں 35 ہزار ڈالر کے اخراجات آئیں گے۔ یاد رہے کہ یہ تمام اخراجات فلائٹ کے علاوہ ہیں۔ایلن مسکس اسپیس کی جانب سے فلائٹ سروس فراہم کی جاتی ہے، ڈریگن نما بوئنگ طیارہ جو ناسا کے مشن کا حصہ ہے اُس میں سفر کرنے کے تقریباً 5 کروڑ ڈالر کے اخراجات ہیں۔ ناسا کا کہنا ہے کہ اگر کوئی شوقین شخص تمام اخراجات ادا کرنے کی استطاعت رکھتا ہے تو وہ زمین کو دوسری طرف سے دیکھ سکتا ہے، ماہرین اُس کو خلائی سٹیشن اور چاند کے دیگر حصوں کا دورہ بھی کرائیں گے۔ دوسری جانب ناسا کی جانب سے اعلان ہونے کے بعد ایما زون کمپنی نے اپنی ویب سائٹ پر”آؤ چاند پر چلیں”نامی پیکج بھی متعارف کرادیا جہاں پر بکنگ کی جاسکتی ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.