جمال خشوگی کی قتل سے چند لمحے پہلے کی گفتگو منظر عام پر

jamal khashoggi

امریکی ٹی وی نے استنبول کے سعودی قونصل خانے میں جمال خشوگی کے قتل کے دوران ہونے والی آخری گفتگو جاری کردی۔ مقتول سعودی صحافی نے صورتحال کو دیکھ کرقاتلوں کو خبردار کیا کہ وہ ایسا نہیں کرسکتے کیونکہ باہر لوگ ان کا انتظار کررہے ہیں اور پھر چیخ کےساتھ ان کے آخری الفاظ تھے کہ میں سانس نہیں لے سکتا۔ امریکی ٹی وی کے مطابق یہ الفاظ جمال خشوگی کی موت سے چند لمحے پہلے کے ہیں ۔
حکام کے مطابق جمال خشوگی کے جسم کو جب آری سے کاٹا جا رہا تھا توقاتلوں کو کہا گیا کہ وہ آواز کو دبانے کے لیے موسیقی سنیں۔اس دوران معاملے پر پیشرفت سے آگاہ رکھنے کے لئے کئی فون کالز کی گئیں۔ ترک حکام کو یقین ہے کہ فون کالز ریاض میں اعلیٰ حکام کو کی گئیں۔امریکی ٹی وی کا دعویٰ ہے کہ ریکارڈ سے واضح ہو رہا ہے کہ صحافی کا قتل سوچا سمجھا منصوبہ تھا۔
ادھرسعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر نےکہا ہےکہ جمال خشوگی قتل کیس میں کسی سعودی شہری کو دوسرے ملک کے حوالے نہیں کریں گے۔ ترکی نے جمال خاشقجی قتل کیس میں سعودی عرب کے دو اعلیٰ عہدے داروں سابق انٹیلی جینس چیف احمد العسیری اور سعودی عدالت کے سابق مشیر سعود القحطانی کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہوئے ہیں۔ترک تحقیقات میں ان دونوں پر سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل میں ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.