ترکی کی شمالی شام میں مسلح گروپوں کے ٹھکانوں پر گولہ باری

0

ترک صدر رجب طیب اردوان نے کرد کنٹرول علاقے میں آپریشن کے آغاز کا باقاعدہ اعلان ٹوئٹ کیا، انہوں نے کہا کہ ترک فوج نے شامی نیشنل آرمی کے ساتھ مل کر آپریشن کا آغازکر دیا ہے۔ شمالی شام میں آپریشن کرد ملیشیا اور داعش کے خلاف کیا جا رہا ہے، اس آپریشن کا مقصد جنوبی سرحد کو دہشت گردوں کی پناہ گاہ بننے سے روکنا ہےترک صدر کا کہنا تھا کہ آپریشن پیس اسپرنگ ترکی میں دہشت گردی کے خطرات کو ختم کردے گا، آپریشن کا مقصد علاقے کو محفوظ بنانا، پناہ گزینوں کی گھروں کو واپسی بھی ہے۔ یاد رہے کہ چند دن قبل ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا تھا کہ ترک فوج تیار ہے، شام میں کرد ملیشیا کے خلاف آپریشن کسی بھی لمحے شروع ہو سکتا ہے۔ ادھر امریکی فوج نے بھی ترک سرحد سے انخلا شروع کر دیا تھا، وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا تھا کہ امریکا کی مسلح افواج آپریشن کی حمایت نہیں کریں گی نہ ہی اس کا حصہ بنیں گی۔ دوسری طرف شامی ڈیموکریٹک کونسل کے ایک سینئر رہنما نے کہا تھا کہ ترکی کے عزائم خطرناک ہیں، وہ ایسی جنگ کو ہوا دینا چاہتا ہے جس کے ساتھ سرحد کے دونوں طرف خاص طور پر ترکی کے اندر بڑے پیمانے پر انتشار پھیلنے کا اندیشہ ہے۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: