ترقی یافتہ دنیا میں بھی صنفی تفریق ؟؟

امریکی خواتین سوکر ٹیم نے یو ایس سوکر فیڈریشن پر مقدمہ دائر کرتے ہوئے اپنا معاوضہ فٹبال کے مرد کھلاڑیوں کے برابر کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ عدالت میں جمع کرائی گئی درخواست میں 28 خواتین کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ ویمن ٹیم نے مردوں کے مقابلے میں زیادہ مقابلے کھیلے اور جیتے جبکہ ان کی وجہ سے فیڈریشن کے منافع میں بھی اضافہ ہوا ہے لیکن اس کے باوجود فیڈریشن کا کہنا ہے کہ خواتین مردوں کے برابر معاوضے کی حقدار نہیں ہیں ۔ امریکا کی خواتین سوکر ٹیم نے اس سے قبل بھی کئی بار فیڈریشن سے یکساں معاوضوں کا مطالبہ کیا تاہم ہر بار ان کا مطالبہ مسترد کردیا گیا۔خواتین کا مردوں سے کم معاوضے کا مسئلہ صرف امریکا تک ہی محدود نہیں بلکہ فٹبال کی بین الاقوامی نتظیم ” فیفا ” میں بھی اس حوالے سے بدترین صنفی تفریق موجود ہے ،جہاں مردوں کی 32 ٹیموں کو 40 کروڑ ڈالر ادا کیے جاتے ہیں ،اس کے برعکس خواتین کی 24 ٹیموں کو صرف 3 کروڑ ڈالر دیئے جاتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.