تبدیلی سرکار کا وی آئی پی کلچر کے خاتمے کا دعویٰ جھوٹا نکلا

نکالے جانے والے تین اہلکاروں میں سے ایک اہلکار صوبائی وزیر کے بیٹے کے خلاف درج ہونے والے مقدمہ کا مدعی جبکہ دو عینی شاہد تھے۔ اہلکاروں کا دعویٰ ہے کہ ان کو بغیر کسی شوکاز نوٹس کے نوکری سے نکالا گیا۔
گزشتہ سال 4 اکتوبر کو لاہور میں پولیس اہلکاروں نے مشکوک گاڑی کو روکا تو کار میں سوار میاں حسن نے طیش میں آکر پولیس اہلکاروں کو گالیاں دیں اور اپنے ساتھیوں کو بلا لیا۔ کار میں اس کے ساتھ مبینہ طور پرایک لڑکی بھی تھی اور دونوں قابل اعتراض حالت میں تھے۔ میاں احسن اور ساتھیوں نے گاڑی روکنے پر مبینہ طور پر پولیس اہل کاروں کو سرکاری اسلحے سمیت اغوا کرلیا تھا جس پر اہلکاروں نے مقدمہ درج کرایا، تاہم بعد میں سیاسی دباؤ کے باعث ان تینوں اہلکاروں سے اُلٹا ملزمان کے حق میں بیانات لے لیے گئے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.