بے نامی اکاونٹ رکھنے والوں کیخلاف گھیرا تنگ

بے نامی اکاونٹس کی روک تھام کیلئےچیئرمین ایف بی آر سرگرم ،،،،،، شبرزیدی نے تمام بینکوں کے سربراہان کو خط لکھاکہ ایف بی آر اکاؤنٹ ہولڈرز سے براہ راست رابطہ نہیں کرنا چاہتا ، اقدام لوگوں کے ایف بی آر پر اعتماد قائم رکھنے کے لیے ہے۔شبرزیدی کا کہنا تھا بے نامی اکاؤنٹس پرفراہم معلومات خفیہ رکھی جائیں گی، ایف بی آرقانوناًبےنامی اکاؤنٹس کی نشاندہی کاذمےدار ہے، اس سلسلے میں ایف بی آر اور بینک مل کر کام کریں تو بہتر نتائج حاصل کئے جا سکتے ہیں۔چیئرمین ایف بی آر نے خط میں کہا بے نامی اکاونٹس کی نشاندہی کے لیے تمام بینکوں کا تعاون بہت ضروری ہے۔ تمام بینکوں سے بے نامی اکاونٹس سے متعلق معلومات جو بینکوں کو حاصل ہیں، پندرہ یوم میں ایف بی آر کو فراہم کریں۔
یاد رہے چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے کہا تھا کہ 500 اسکوائر یارڈز سے زائد کے گھر میں رہنے والے پر ٹیکس ریٹرن لازم ہے، بڑے مکان میں رہنے والوں کو ٹیکس دینا پڑے گا اور 1000 سی سی سے بڑی گاڑی رکھنے والے پر بھی ٹیکس ریٹرن لازم ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.