بیلجیئم میں جانورذبح کرنے پرپابندی

ابتدائی طور پر بیلجیئم کے شمالی علاقے فلینڈرزمیں مسلمانوں اور یہودیوں کے طریقے سے جانور ذبح کرنے پر پابندی کا قانون پاس کیا گیا تھا جبکہ رواں سال ستمبر میں یہی قانون جنوبی علاقے میں بھی لاگو ہوجائے گا،،،نئے قانون کے مطابق جانوروں کو ذبح کرنے سے پہلے کرنٹ لگا کر بیہوش کرنے کو لازمی قرار دے دیا گیا ہے
بیلجیئم میں مقیم مسلمانوں کی جانب سےنئے قانون پر شدید احتجاج کیا گیا جبکہ یہودیوں کی جانب سے بھی ئے قانون کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا اوراسے نازی دور کے بعد یہودیوں کے خلاف سب سے گھناﺅنا اقدام قرار دیا گیا،،،یہودیوں کا “کوشر” طریقہ بھی مسلمانوں کے جانور حلال کرنے کے طریقے سے ملتا جلتا ہے۔
جنوری 2018 میں یہودیوں کی مختلف تنظیموں کی جانب سے اس قانون کے خلاف عدالت سے رجوع کیا گیا تھا۔بیلجیئم سے پہلےسویڈن،ڈنمارک،سوئٹزر لینڈ اور نیوزی لینڈ بھی جانوروں کو حلال اور کوشر کرنے پر پابندی عائد کرچکے ہیں جس پریورپ کی انسانی حقوق کی عدالت نے قرار دیا تھا کہ کوشر یہودی مذہب کا لازمی جزو ہے۔
Back

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.