بھارت کشمیر میں عائد پابندیاں ختم اور گرفتار افراد کو رہا کرے

ہیومن رائٹس واچ جنوبی ایشیا کی ڈائریکٹر میناکشی گنگولی نے ایک بیان میں کہا کہ گزشتہ دوماہ سے جب سے بھارتی حکومت نے جموں و کشمیر کی آئینی خودمختاری ختم کی اور ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کردیا، علاقے میں موبائل اور انٹرنیٹ سروسز کی معطلی سمیت سخت پابندیاں عائد ہیں۔انہوں نے کہا کہ بہت سے غیر ملکی رہنماؤں نے کشمیری رہنماؤں کی مسلسل نظربندی، احتجاجی مظاہروں پر پابندی، لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنانے اور بھاری تعداد میں فوجیوں کی تعیناتی کے باعث نقل وحرکت پر قدغنوں، ہنگامی طبی امداد سمیت عوامی خدمات میں رکاوٹوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق بھارت کہتا ہے کہ پابندیوں سے لوگوں کی زندگیوں کو بچایاگیا اور امن وامان کو قائم رکھا گیا ہے، لیکن بھارتی فورسز کے ہاتھوں فائرنگ کا نشانہ بننے اور گرفتاری کے خوف سے وادی کشمیرمیں تمام دکانیں بند اور کلاس روم خالی پڑے ہیں۔میناکشی گنگولی نے کہا کہ انتظامیہ سفارتکاروں، بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے صحافیوں، بھارت کے سماجی کارکنوں اور حزب اختلاف کے سیاست دانوں کو علاقے کا دورہ کرنے کی اجازت نہیں دے رہی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ انتظامیہ کو ظالمانہ کارروائیوں کا خاتمہ کرنا چاہیے اور انسانی حقوق کی پامالیوں پر فورسز اہلکاروں سے جواب طلب کرنا چاہیے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.