بھارت کا حقیقی مکروہ چہرہ دنیا کے سامنے عیاں ہوگیا

0

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں حالات قابو سے باہر ہونے لگے اور پولیس کی ملی بھگت سے کرفیو کے باوجود بی جے پی کے دہشتگردوں کی جانب سے مسلمانوں کے گھروں اور دوکانوں پر حملوں میں تیزی آگئی جبکہ سینکڑوں املاک اور گاڑیوں کو نذرآتش کردیا گیا ۔
اشوک نگر میں ہندو انتہا پسندوں نے مسجد پر دھاوا بول دیا۔ بی جے پی اور بجرنگ دل کے فسادیوں نے بارگاہ اور مساجد کو بھی نہ بخشا اور فسادات کی آڑ میں دہلی کے علاقے اشوک نگر کی مسجد پر دھاوا بول دیا۔ بلوائیوں نے مسجد کے مینار پر چڑھ کر توڑ پھوڑ کی، مینار سے لاؤڈ سپیکر نیچے پھینک کر بھارت کا قومی پرچم اور ہندو انتہا پسندی کی علامت نارنجی جھنڈا لگا دیا ۔
دوسری طرف نئی دہلی میں کرفیو کے باوجود بھارتی جنتا پارٹی کے رہنما جے بھگوان گول نے موج پور اور بابر پور میں مسلم مخالف ریلی نکالی اور مسلمانوں کے خلاف زہر اُگلتے رہے
مودی کے بے قابو یاروں نے کوریج کرنے والے صحافیوں کو بھی نہ بخشا ،،، کیمرے چھین کر انہیں شدید تشدد کا نشانہ بنایا اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں
ادھر دنیا کو بھارتی نام نہاد جمہوریت کا سچ دکھانے پر مودی سرکار میڈیا پر چڑھ دوڑی اور ایک حکم نامے کے ذریعے میڈیا کو مسلم کش فسادات دکھانے سے روک دیا اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر بھی مذہبی منافرت پھیلانے، حساس اور اشتعال انگیز مواد شیئر کرنے پر پابندی عائد کردی۔
دوسری جانب نئی دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال نے حالات کی کشیدگی کے پیش نظر فوج طلب کرلی اور اس حوالے سے وزارت داخلہ کو مراسلہ ارسال کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نئی دہلی کے حالات پولیس کےقابو سے باہر ہوچکے ہیں،ادھر بھارت کی اپوزیشن جماعتوں نے نئی دہلی میں انتہاپسندوں کےحملوں کو مودی حکومت کی بدترین ناکامی قرار دیا ہے۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: