بھارت کاچین پر لداخ سرحد پر آپٹیکل فائبر جیبلز بچھانے کا الزام

0
ایک سینئر سرکاری عہدیدار نے بتایا کہ اس طرح کی کیبلز کی بدولت پرخطر علاقوں میں افواج کو بہترانداز میں مواصلاتی رسائی ہو سکے گی اور حال ہی میں اس طرح کے تاروں کو لداخ کے ہمالیہ کے علاقے میں پینگونگ تسو جھیل کے جنوب میں دیکھا گیا ہے۔
چین کی وزارت خارجہ نے اس معاملے پر خبر ایجنسی کو فوری طور پر جواب نہیں دیا جبکہ دفاعی عہدیداروں نے بھی اس بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا۔جھیل کے جنوب میں 70 کلومیٹر طویل محاذ پر بھارت اور چین کی افواج ایک دوسرے سے نبردآزما ہیں اور دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان چند ماہ قبل ہوئی خطرناک جھڑپ کے بعد مسلسل آمنے سامنے کھڑی ہیں اور ان کے عقب میں ٹینکوں اور ہوائی جہازوں سے لیس مزید فوج ہمہ وقت ان کی مدد کے لیے موجود ہے۔بھارت کے ایک اور عہدیدار نے بتایا کہ دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کی گزشتہ ہفتے ملاقات کے بعد سے دونوں اطراف سے کوئی خاص انخلا نہیں ہوا ۔رپورٹ کے مطابق لداخ کے مرکزی شہر لیح کے اوپر ہندوستانی لڑاکا طیارے صبح سے مسلسل اڑان بھر رہے ہیں اور پہاڑوں سے گھری یہ وادی ان کی گھن گرج سے گونج اٹھتی ہے۔ایک عہدیدار نے جھیل کے جنوبی کنارے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے لیے سب سے بڑی پریشانی یہ ہے کہ انہوں نے تیز رفتار مواصلات کے لیے آپٹیکل فائبر کیبل بچھا دی ہے۔انہوں نے بتایا کہ وہ خطرناک رفتار سے جنوبی کنارے پر آپٹیکل فائبر کیبلز بچھا رہے ہیں۔دوسرے سرکاری عہدیدار نے بتایا کہ بھارتی خفیہ ایجنسیوں نے ایک ماہ قبل پینگونگ تسو جھیل کے شمال میں بھی ایسی ہی کیبلوں کا مشاہدہ کیا تھا۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: