بھارتی وزیراعظم مودی اور اپوزیشن رہنما راحول گاندھی کی بھی مذمت

انتہا پسند ہندوؤں کی مسلم دشمنی ہر آنے والے دن کے ساتھ مزید واضح ہو رہی ہے۔ متعل ہجوم کی جانب سے نوجوان کی ہلاکت کے خلاف بھارت کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔ جھارکھنڈ میں مشتعل ہندوؤں نے ایک مسلمان نوجوان پر بدترین تشدد کیا تھا اور اس سے زبردستی مذہبی نعرے لگوائے تھے، تبریز انصاری بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگیا تھا۔
چوبیس سالہ مسلم نوجوان تبریز انصاری پر تشدد کو روکنے پرناکامی پر 2 پولیس اہلکاروں کو بھی نوکری سے معطل کر دیا گیا ہے۔ جبکہ 11 افراد کو اس سے زبردستی ہندو مذہبی نعرے لگوانے کے جرم میں حراست میں لے لیا گیا ہے۔ انصاری پر تشدد کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی تھی، جس میں انصاری کو روتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جب کہ بھارت کے علاقے جھارکنڈ میں مشتعل افراد اسے ‘جے شری رام‘ بولنے کا کہہ رہے ہیں۔
مسلمان نوجوان پر اس کے گاؤں والوں کی جانب سے چوری کا الزام لگایا گیا تھا، اسے ایک کھمبے سے باندھا گیا اور قریب 12 گھنٹے تک اسے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ طویل تشدد سہنے کے بعد پولیس نے اسے اپنی تحویل میں لیا اور ہسپتال منتقل کر دیا تھا، جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہوگیا تھا۔
بھارتی وزیراعظم مودی اور اپوزیشن رہنما راحول گاندھی نے بھی واقعے کی مذمت کی۔ مسلمانوں کے خلاف بھارتی انتہا پسندوں کے حملوں کے بڑھتے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.