بورس جانسن کا اسلام فوبیا بارے ریمارکس پر معافی سے پھر انکار

0

برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے اسلاموفوبیا کے حوالے سے اپنے قابل اعتراض اور توہین آمیز ریمارکس پر معافی مانگنے سے پھر انکار کر دیا ۔ یہ معاملہ اپوزیشن رہنما جریمی کوربن اوربریڈ فورڈ ویسٹ سے رکن پارلیمنٹ ناز شاہ نے ہفتہ وار پرائم منسٹر کوئسچن آور میں اٹھایا اور بورس جانسن سے معافی کا مطالبہ کیا تھا۔
جریمی کوربن نے 2018 میں’’ دی ٹیلی گراف ‘‘ میں شائع ہونے والے بورس جانسن کے ایک آرٹیکل کا بھی حوالہ دیا جس میں انہوں نے برقعہ اوڑھنے والی خواتین کو ’’ بینک لوٹنے والی‘‘ اور ’’ لیٹر بکس ‘‘ سے مشابہت دی تھی۔ جریمی کوربن نے وزیراعظم کے مجموعی روئیے کو بھی ہدف تنقید بنایا، انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ ان کا رویہ صرف مسلم خواتین کے خلاف ہی نہیں بلکہ سنگل مدرز اور ان کے بچوں اور ورکنگ ویمنز کے بارے میں بھی تھا۔
لیبر رہنما نے کہا کہ وزیر اعظم متعدد بار سنگل مدرز اور ان کے بچوں کے بارے میں ایسے ہی ریمارکس دے چکےہیں۔ لوکل سروسز کی بندش پر حکومت کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس سے خواتین کے بارے میں امتیازی ماحول پیدا ہوا ہے جس سے بالخصوص سیاہ فام ، ایشیائی ، نسلی اقلیتیں اور معذور خواتین متاثر ہوئی ہیں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: