بریگزٹ بحران،اپوزیشن نے انتخابات کامطالبہ کر دیا

برطانوی اپوزیشن رہنما جیریمی کوربن کا کہنا ہے کہ نئے مینڈیٹ والی حکومت ہی یورپی یونین سے بہتر انداز میں مذاکرات کرسکتی ہے، برطانوی وزیراعظم تھریسامے بریگزٹ ڈیل پر دستخط کرچکی ہیں جبکہ یورپی پارلیمنٹ بھی برطانیہ کی یونین سے علیحدگی کی منظوری دے چکی ہے،
برطانوی وزیراعظم تھریسامے نے گزشتہ برس دسمبر میں پارلیمنٹ میں بریگزٹ کے حوالے سے ووٹنگ کا اعلان کیا تھا تاہم شکست کے خوف سے انہوں نے بریگزٹ پر ووٹنگ موخر کردی تھی۔ جون 2016 میں برطانوی عوام نے 46 برس بعد دنیا کی سب سے بڑی سنگل مارکیٹ یورپی یونین سے نکلنے کا فیصلہ کرتے ہوئے بریگزٹ کے حق میں 52 فیصد اور اس کے خلاف 48 فیصد ووٹ دیے تھے
یورپی یونین کا قیام 1993 میں عمل میں آیا جو کہ ایک 28 رکن ممالک پر مشتمل سیاسی اور اقتصادی اتحاد ہے ۔کی پالیسیوں کا مقصد اندرونی مارکیٹ کے اندر لوگوں، سامان ،خدمات اور دارالحکومت کی آزاد تحریک کو یقینی بنانا ہے۔2012 میں یورپی یونین کو نوبل امن انعام سے بھی نوازا گیا ۔ اقوام متحدہ ، ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن ،جی سیون اور جی ٹوئنٹی میں نمائندگی کی وجہ سے یورپی یونین کو ایک ابھرتی ہوئی سپر پاور سمجھارہا ہے
یورپی یونین میں قیام کے مقابلے میں برطانیہ اقتصادی طور پر بریگزٹ کی کسی بھی صورت میں کمزور ہوجائے گا ۔سرکاری اعدادوشمار کے مطابق یورپی یونین میں رہنے کے مقابلے میں ٹریزامے کے بریگزٹ منصوبہ کے تحت پندرہ سال کے بعد برطانیہ کی معیشت 3.9 فیصد کم ہوسکتی ہے ۔ جبکہ آزاد ماہرین کے مطابق 2030 تک 3.9 فیصد جی ڈی پی 100 بلین پاؤنڈ کے برابر ہوگا حکومت کی رپورٹ میں کسی بھی معاہدے بریگزٹ سمیت 3 دیگر ممکنہ نظریات کا جائزہ لیتا ہے جو سب سے زیادہ نقصان دہ ہوگا معیشت کسی بھی صورتحال میں بہتر ہو گی لیکن اس پر کافی فرق پڑے گا

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.