برطانیہ میں اسلامو فوببا عروج پرجا پہنچا

انسانی حقوق کی تنظیم “کیج” نے برطانیہ کے ایئرپورٹس اور بندرگاہوں پر مسلمان مرد و خواتین کو محض ان کے مذہبی عقائد کی بنیاد پر6 گھنٹوں سے زائد تک روکنے اور ان سے مضحکہ خیز سوالات پوچھنے والے عملے کو ’اسلاموفوبیا‘ کا متاثرین قرار دے دیا۔تنظیم کے مطابق سال 2000 سے اب تک مسلمان مرد و خواتین کو ایئرپورٹس اور بندرگاہوں پر روکنے کے 4 لاکھ 20 ہزار واقعات ریکارڈ کیے گئے،،،کیج نامی تنظیم کا کہنا تھا کہ اسلاموفوبیا میں مبتلا یہ حکام مسلمان خواتین کوسکارف اتارنے پر مجبور کردیتے ہیں۔انسانی حقوق کی تنظیم کے ڈائریکٹر نے اپنے مراسلہ میں لکھا کہ ’لاکھوں مسلمانوں کو ’بغیر کسی شبہ‘ کے روک لیا جاتا ہے اور یہ عمل اسلاموفوفیا کا عکاس ہے جسے ہراساں کے زمرے میں دیکھا جائے‘ادھرلندن سےتعلق رکھنے والے ایک مسلمان نے بتایا کہ 2005 کے بعد سے برطانیہ میں داخل ہوتے وقت انہیں مجموعی طور پر 40 مرتبہ ایئرپورٹ پرروکا گیا،،،اوران سے ان کے مذہب کے بارے میں انتہائی مضحکہ خیز سوالات پوچھے جاتے تھے

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.